انڈیا کے شہر حیدرآباد میں ایک مسجد نے کچی آبادیوں کی رہائشی خواتین کے لیے جمنازیم کھولا ہے۔
ٹائمز آف انڈیا میں جمعے کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق ’یہ جم رجندرا نگر کے علاقے میں کھولا گیا ہے۔‘
ریاست میں پہلی بار کسی مسجد نے خواتین کے لیے نہ صرف جم کھولا ہے بلکہ انہیں ٹرینر بھی فراہم کیا ہے۔

اپنے آپ کو فِٹ رکھیں، حیدرآباد کی مسجد میں خواتین کے لیے جِم قائم.
’ارنب گوسوامی کے خلاف تحقیقات سے انڈیا کے پاکستان مخالف عزائم بے نقاب‘
نیوزواورنگ ٹی وی
جم کھولنے کا مقصد کچی آبادیوں میں رہنے والی خواتین* میں بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔
دن میں دو سیشنز میں خواتین کو جسمانی مشقوں کی* ٹریننگ دینے کے لیے ایک ماہر خاتون ٹرینر کو رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں پر صحت کے حوالے سے مشورہ دینے کے لیے طبی ماہرین اور ایک فزیشن بھی موجود ہے۔
مسجد مصطفیٰ میں قائم یہ جم امریکہ کی غیر سرکاری* تنظیم ’سیڈ‘ کی فنڈنگ سے کھولا گیا ہے جب کہ ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم ہیلپنگ ہینڈ فاونڈیشن اسے چلانے کے لیے مسجد کمیٹی کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
یہ جم پرانے شہر کی کچی آبادیوں میں ہونے والے اس* سروے کو مدنظر رکھ کر قائم کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ 52 فیصد خواتین کو موٹاپے کی وجہ سے سنگین بیماریوں کا خدشہ ہے۔