لتا منگیشکر کے انتقال کی خبر سن کر ان کے مداح سوگ میں ڈوب گئے ہیں
| لتا منگیشکر کے انتقال کی خبر سن کر ان کے مداح سوگ میں ڈوب گئے ہیں |
بھارتی صدر رام ناتھ کووند نے لتامنگیشکر کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لتامنگیشکر نےرانی بن کرہندی فلم انڈسٹری پرراج کیا، ان کی آواز خاموش ہوگئی لیکن ان کے سر گونجتےرہیں گے
بریچ کینڈی اسپتال میں لتا منگیشکر کا علاج کرنے والے ڈاکٹر پرتیت سمدانی نے میڈیا کو بتایا کہ لتا منگیشکر کا صبح 8.12 بجے انتقال ہوا، کرونا سے متاثرہ ہونے پر مسلسل 28 دنوں تک داخل اسپتال رہنے کے بعد ان کے متعدد اعضا نے کام کرنا چھوڑدیا تھا۔
بولی وڈ میں چھ دہائیوں سے اپنی بے مثال اور جادوئی آواز میں 20 سے بھی زائد زبانوں اور 30 ہزار سے بھی زیادہ نغموں کو اپنی آواز دے کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام درج کرانے والی موسیقی کی دیوی لتا منگیشکر چل بسیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق لتا منگیشکر 92 برس کی عمر میں ممبئی کے برج کینڈی اسپتال میں انتقال کرگئیں، لتامنگیشکر کی بہن اوشامنگیشکر نےان کی وفات کی تصدیق کردی ہے
ھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق لتامنگیشکر کرونا وائرس میں مبتلا تھیں اور ایک ماہ سےآئی سی یو میں تھیں، اس سے قبل وہ نمونیہ کا شکار ہوئیں تھیں۔
تامنگیشکر نے1939میں فلم سیوا سےفنی سفرکاآغاز کیا، سروں کے بادشاہ محمد رفیع کےساتھ گایا انکاہرگانا امرہوا، 2001میں لتامنگیشکر کو اعلیٰ ترین سول اعزازبھارت رتن سےبھی نوازاگیا۔
استاد بڑے غلام علی خان جب ان کے گانے سُنتے تو بے اختیار کہہ اُٹھتے کہ ’کم بخت، کبھی بےسری ہوتی ہی نہیں‘۔
آواز کے سحر میں کئی نسلوں کو گرفتار رکھنے والی سُروں کی ملکہ کے فن نے 6 دہائیوں کا سفر طے کیا، 3 نسلیں اس عہد میں جوان ہوئیں اور وہ ان 3 نسلوں کی پسندیدہ گلوکارہ ٹھہریں، جس گلوکار کے ساتھ گانا گایا کمال گایا۔
محمد رفیع سے لے کر کشور کمار تک، ادیت نارائین سے لے کر سونو نگم تک ان کا ساتھ، سننے والوں کو خوب بھایا
سُروں کی ملکہ لتا منگیشکر پاکستانی گلوکارہ ملکہ ترنم میڈم نور جہاں کی بہت بڑی مداح تھیں، پاک بھارت سرحد پر دونوں لیجنڈز کی ملاقات کے بھی خوب چرچے رہے۔
لتا منگیشکر اور ملکہ ترنم نور جہاں کی دوستی کے چرچے سرحد کے دونوں اطراف رہے،جہاں ساری دنیا لتا جی کی دیوانی تھی وہیں وہ ملکہ ترنم نورجہاں کی مداح تھیں۔
تقسیم ہند کے بعد دونوں کی ملاقات نومینز لینڈ یعنی واہگہ بارڈر پر ہوئی، نور جہاں لتا کے لیے لاہور سے مٹھائی اور بریانی لائی تھیں۔
لتا منگیشکر کے ساتھ ان کی بہنیں آشا اور مینا بھی ساتھ تھیں، نور جہاں لتا جی کے بارے میں کہتی تھیں کہ وہ بہت اچھا گاتی ہیں، ان جیسا کوئی نہیں گا سکتا۔
لتا منگیشکر بھی میڈم نور جہاں کی فین تھیں کہتی تھیں کہ انہوں نے اردو کے تلفظ میڈم نور جہاں سے سیکھے۔
سُروں کی ملکہ لتا منگیشکر بہت سے پاکستانی فنکاروں سے بہت متاثر تھیں، کہتی تھیں کہ "مہدی حسن کے گلے میں
بھگوان بولتا ہے"، نصرت فتح علی خان کو بھی بہت پسند کرتی تھیں
نیوز وارننگ ٹی وی