اس کےعلاوہ محمد رضوان، محمد وسیم جونیئر، افتخار احمد اور خوشدل شاہ میلبرن سے پشاور جبکہ اسسٹنٹ بولنگ کوچ عمر رشید، شان مسعود اور فاسٹ بولر شاہنواز دھانی کراچی پہنچیں گے۔
تاریخ اس وقت بابر اعظم کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے لیے ایک نیا باب کھلنے کو ہے اور اگر بابر اعظم اس امتحان میں سرخرو ہوتے ہیں تو یہ بطور کپتان ان کے ایک نئے عہد کا آغاز ہو گا۔
اپنے بلے سے وہ پاکستان کے لیے کئی یادگار فتوحات رقم کر چکے ہیں۔ اب اُنھیں عیاں کرنا ہے کہ وہ اپنے ذہن سے بھی اس ٹیم کے مستقبل کو سینچ سکتے ہیں اور ایک ایسے کرکٹ کلچر کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جو بجا طور پر چیمپیئن برانڈ کہلانے کا مستحق ہو۔
یہ فارمولہ لگ بھگ پوری دنیا میں اسی طرح سے چلتا ہے اور اکثر کنڈیشنز میں بار آور بھی ثابت ہوتا ہے۔ مگر میلبرن کرکٹ گراؤنڈ کی جیومیٹری اس فارمولے کے برعکس ہے اور یہاں کسی بھی بیٹنگ ٹیم کے لیے یہ اپروچ تباہ کن ثابت ہو سکتی تھی۔
جو پلیٹ فارم پاکستانی ٹاپ آرڈر نے ترتیب دیا تھا، وہاں سے بآسانی مجموعہ 165 رنز تک دھکیلا جا سکتا تھا بشرطیکہ حواس مجتمع رکھے جاتے اور وسیع و عریض گراؤنڈ میں اندھا دھند بلا چلانے کی بجائے وہ دانشمندانہ کرکٹ کھیلی جاتی جو شان مسعود نے کھیلی۔
اگر پاکستانی تھنک ٹینک کی یہاں پلاننگ یہ تھی کہ حالات و واقعات سے قطع نظر ڈیتھ اوورز میں صرف باؤنڈریز کا پیچھا کرنا ہے تو یہ بے حد ناقص ثابت ہوئی۔ شان مسعود نے جو پیمانہ مقرر کیا تھا، اگر آخری اوور تک اسی کی پیروی کی جاتی تو یہ ٹرافی پاکستان سے بہت دور نہیں تھی۔
بابر اعظم کو اپنی قیادت کے انداز میں بھی اب کچھ انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ ابھی تک وہ ایک ایسے کپتان کے طور پر ابھرے ہیں جو ڈریسنگ روم سے ایک طے شدہ سوچ لے کر نکلتا ہے اور گراؤنڈ میں حالات کے جبر کے باوجود اپنے فارمولے سے پیچھے نہیں ہٹتا۔
پاکستانی بولنگ سے یہاں کوئی بھی گلہ ناقابلِ جواز ہو گا کہ اس کم مارجن کے میچ کو بھی کھینچ تان کر نہ صرف آخر تک لے گئی بلکہ مڈل اوورز میں پاکستان کی بالادستی بھی برقرار رکھی۔ مگر بابر اعظم سے بہت بڑی تزویراتی غلطی یہ ہوئی کہ نسیم شاہ کو پہلے اوور میں بٹلر کے سامنے مہنگا ثابت ہونے کے باوجود پاور پلے میں دوبارہ اوور دے دیا گیا اور پاور پلے میں میچ کا توازن بگڑ گیا
پاکستان کی یہ بھی بدقسمتی رہی کہ شاہین آفریدی عین ضرورت کے وقت انجرڈ ہو گئے۔ ان کے دو اوورز اگر وہاں انگلش بیٹنگ میں کوئی دراڑ ڈال جاتے تو پہلے سے ہی دباؤ میں سہمی انگلش اننگز مدافعت پر مجبور ہو جاتی اور پاکستان کوئی معجزہ برپا کر پاتا۔
لیکن حتمی حقیقت یہی ہے کہ اگر پاکستانی بیٹنگ اننگز کے آخری لمحات میں اپنے حواس مجتمع رکھ پاتی اور فارمولہ کرکٹ کی بجائے میلبرن کی پچ کے تقاضے نبھا جاتی تو پاکستان کی ٹی ٹونٹی کرکٹ کا ایک نیا باب شروع ہو سکتا تھا لیکن انگلینڈ کی ڈیتھ بولنگ اور پاکستان کی فارمولہ بیٹنگ نے ون ڈے چیمپئنز کو ہی ٹی ٹونٹی کا تاج بھی ہدیہ کر ڈالا