کورونا کا نیا ویریئنٹ ’بی ایف 7 صورتحال مانیٹر کر رہے ہیں پاکستان
پاکستان
کے قومی ادارہ صحت نے میڈیا پر چلنے والی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ
ملک میں کورونا وائرس کا کوئی نیا ویریئنٹ نہیں پایا گیا۔
قومی ادارہ صحت کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’میڈیا پر
کورونا وائرس کے ایک نئے ویریئنٹ کے خطرے سے متعلق ایک غیر تصدیق شدہ خبر گردش کر
رہی ہے۔‘
قومی
ادارہ صحت کی جانب سے مزید کہا گیا کہ ’نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز سینٹر یقین
دلاتا ہے کہ فی الوقت ایسا کوئی خطرہ موجود نہیں۔ صورتحال کو سنجیدگی سے مانیٹر کر
رہے ہیں۔‘
کورونا
وائرس کے نئے ویریئنٹ کے پھیلنے سے متعلق اطلاعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں
جب پاکستان کے دو پڑوسی ممالک چین اور انڈیا میں ’اومی کرون‘ کے نئے ویریئنٹ ’بی ایف
7‘ کی درجنوں افراد
میں
تشخیص ہوئی ہے
کورونا
کے ’اومی کرون‘ ویریئنٹ کے کیسز سال 2021 کے آخر میں دنیا بھر میں رپورٹ ہونا
شروع ہوئے تھے اور ’بی ایف 7‘ اسی کا ایک سب ویریئنٹ ہے۔
’ مطابق چینی حکام کے ایک اندازے کے مطابق صرف دسمبر کے مہینے میں چین
کے 250 ملین لوگوں میں کورونا وائرس کے کیسز کی تشخیص ہوئی ہے۔
ماہرین
کا کہنا ہے کہ چین میں کورونا وائرس کے اتنی تیزی سے پھیلاؤ کا سبب یہی نیا ویریئنٹ
’بی ایف 7‘ ہے۔
یونیورسٹی
آف ویسٹ منسٹر میں میڈیکل مائیکرو بائیولوجی کے سینیئر لیکچرار منال محمد کے
مطابق ’بی ایف 7‘ کورونا وائرس کی تمام اقسام میں سے اب تک پایا جانے والا وہ ویریئنٹ
ہے جس کے پھیلنے کی رفتار باقی تمام ویریئنٹس سے زیادہ ہے اور یہ کہ جنہیں پہلے
کورونا وائرس ہو چکا یا وہ لوگ جو ویکسین لگوا چکے دونوں میں پھیلنے کی صلاحیت
رکھتا ہے۔
منال
محمد لکھتے ہیں کہ ’بی ایف 7‘ کی علامات بھی کورونا وائرس کے پچھلے ویریئنٹس جیسی
ہی ہیں یعنی سانس لینے میں دشواری، کھانسی، بخار یا گلے کی خرابی۔
ان
کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں کو اس وائرس کی وجہ سے ڈائریا یا پیٹ کی دیگر بیماریوں کی
شکایات بھی رہتی ہیں۔
انڈیا
میں بھی ’بی ایف 7‘ کے اب تک چار کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ’این ڈی ٹی وی‘ کے مطابق یہ
کیسز گجرات اور اودیشہ میں سامنے آئے ہیں۔
اس سے قبل ’بی ایف 7‘ کے کیسز امریکہ، برطانیہ، جرمنی، بیلجیئم، ڈنمارک اور فرانس سمیت دیگر مماملک میں بھی
نیوز وارننگ ٹی وی