ترکی، اسرائیل تعلقات: کیا ترک سفیر کی نامزدگی سے دونوں ممالک دوبارہ ایک دوسرے کے قریب آ جائیں گے؟*
بین الاقوامی سطح پر اسرائیل پر کڑی تنقید کرنے اور *فلسطینیوں کے حقوق کی بات کرنے والے دائیں بازو کے مسلمان رہنما اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کی حکومت نے اسرائیل سے گذشتہ دو سال سے منقطع سفارتی تعلقات یکطرفہ طور پر بحال کرنے کا اچانک اعلان کیا ہے۔*
![]() |
| ترکی، اسرائیل تعلقات: کیا ترک سفیر کی نامزدگی سے دونوں ممالک دوبارہ ایک دوسرے کے قریب آ جائیں گے؟* |
***
ترکی نے چند روز قبل اسرائیل کے لیے اپنا سفیر نامزد کیا ہے۔ 2018 میں غزہ میں فلسطینی مظاہرین کے خلاف پرتشدد اسرائیلی کارروائیوں کے ردعمل میں ترکی نے اپنے سفیر کو تل ابیب سے واپس بلا لیا تھا۔ یہ مظاہرے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف کیے جا رہے تھے۔*
***
ترک رہنما جو اسرائیل کو ’دہشت گرد اور فلسطینی بچوں کا قاتل‘ قرار دے چکے ہیں ان کی طرف سے اپنا سفیر اسرائیل بھیجنے کے فیصلے کی حکمت اور محرکات کو سمجھنے کے لیے حالیہ واقعات اور اسرائیل اور ترکی کے تعلقات کی طویل تاریخ کو سمجھنا بہت ضروری ہے*
Newswarningtv & news live
