اسامہ کے قتل میں اسرائیل نے بھی مدد کی تھی، سابق سرابرہ سی آئی اےکا دعویٰ*

اسامہ کے قتل میں اسرائیل نے بھی مدد کی تھی، سابق سرابرہ سی آئی اےکا دعویٰ*

 امریکی خفیہ ادارے (سی آئی اے)کے سابق سربراہ جان بریینن نے دعویٰ کیا ہےکہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن *لادن کے قتل میں اسرائیل سے ملنے والی معلومات بھی استعمال کی گئیں۔

نیوزواورنگ ٹی وی کے مطابق

اسرائیلی اخبار کو دیےگئے ایک انٹرویو میں جان برینن کاکہنا تھاکہ اسامہ بن لادن کا قتل امریکی آپریشن تھا* تاہم اس آپریشن میں اسرائیل کی انٹیلی جنس معلومات بھی شامل تھیں۔


زرداری نے اسامہ کی پاکستان میں ہلاکت کو ’خوشی کی خبر‘ قرار دیا تھا: اوباما*

وزیراعظم نے اسامہ بن لادن کو شہید قرار دے دیا

سی آئی اے پاکستان سمیت 120 ممالک کی خفیہ معلومات کیسے چوری کرتی رہی؟

خیال رہےکہ اسامہ بن لادن  2011 کو یکم اور دو مئی کی درمیانی شب  پاکستان  کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی* افواج کے خفیہ آپریشن کے دوران مارے گئے تھے۔

اسامہ کے قتل میں اسرائیل نے بھی مدد کی تھی، سابق سرابرہ سی آئی اےکا دعویٰ*
اسامہ کے قتل میں اسرائیل نے بھی مدد کی تھی، سابق سرابرہ سی آئی اےکا دعویٰ*

                                                

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے حوالے سے جان برینن کاکہنا تھاکہ انہوں نے  اسرائیلی سیاست کو* ایک الگ رخ دیا، نیتن یاہو ذاتی طور پر بااصول یا بااخلاق شخص نہیں لیکن بہت چالاک اور موقع پرست سیاستدان ہیں۔

***

جان برینن کاکہنا تھاکہ اسرائیلی وزیراعظم کو اگر فلسطین کے دو ریاستی حل میں اپنا مفاد نظر آتا تو وہ اس پر *اب تک عمل پیرا بھی ہو چکے ہوتے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو نے اسرائیلی آبادکاری کا منصوبہ بھی اسرائیل کے دائیں بازو گروپ کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بنایا اور اس منصوبے کو امارات اور بحرین سے تعلقات قائم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا۔*اسامہ کے قتل میں اسرائیل نے بھی مدد کی تھی، سابق سرابرہ سی آئی اےکا دعویٰ


Post a Comment

Previous Post Next Post