ن لیگ عبدالقادر بلوچ اور ثناء اللہ زہری کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں

ن لیگ عبدالقادر بلوچ اور ثناء اللہ زہری کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں  

 دونوں رہنماؤں نے ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قیادت پر غداری سمیت دیگئے، لیگی قیادت نے تاحال کوئی ایکشن نہیں لیاگر سنگین الزامات عائد کیے 

***

    * کوئٹہ  پاکستان مسلم لیگ بلوچستان کے سابق صوبائی صدر ثناء اللہ زہری کے خلاف پارٹی ڈسپلن کے تحت کاروائی کرنے سے گریزاں ہ ہے۔ ثناء اللہ زہری شیر کے نشان پر 2018 کے انتخابات میں بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔پارٹی چھوڑنے کے اعلان کے باوجود صوبائی اسمبلی کے رکن ہیں۔ن لیگ نے انہیں ڈی سیٹ کرنے کے لئے الیکشن کمیشن سمیت متعلقہ فورم سے تاحال رجوع نہیں کیا۔

ن لیگ عبدالقادر بلوچ اور ثناء اللہ زہری کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں
ن لیگ عبدالقادر بلوچ اور ثناء اللہ زہری کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں 


دونوں رہنماؤں نے ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قیادت پر غداری سمیت دیگر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔عبدالقادر بلوچ نے نوازشریف پر فوج کے خلاف عوام کو اکسانے کا الزام لگایا تاہم پارٹی کی اعلی قیادت نے ان کے خلاف ایکشن نہیں لیا۔مسلم لیگ ن نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی اور الیکشن کمیشن سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

اٹھارویں ترمیم کے بعد کوئی بھی پارٹی رکن پارلیمنٹ کو ڈی سیٹ کرنے کا آئینی اور قانونی حق رکھتی ہے۔

***

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما جنرل (ر)عبد القادر بلوچ اور ثناء اللہ زہری نے نواز شریف کے بیانیے سے اختلاف کرتے ہوئے پارٹی سے علحیدگی اختیار کر لی تھی۔پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عبدال قادر بلوچ اور ثنا اللہ زہری نے وزرات اور وزیر اعلی شپ کے مزے لوٹیاور مشکل وقت آنے پر ن لیگ سے کنارہ کش ہوگئے انہوں نے کہا کہ پارٹی چھوڑنے والے دونوں رہنما ہمارے مشکل وقت کے ساتھی نہیں رہے ہیں نہ ہی یہ دونوں رہنماہ یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر میں کسی اور پارٹی میں مشکلات برداشت کی ہوں۔

***

اس تمام صورتحال میں پاکستان پیپلز پارٹی خاصی متحرک نظر آئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے ثناءاللہ زہری کو پیپلز پارٹی میں شمولیت کی باقاعدہ دعوت دی تھی۔

Newswarningtv & News live



Post a Comment

Previous Post Next Post